غزل 7 اشعار

وہی خوشبو کبھی گلشن سے کبھی بن سے نکال

Wohi khushboo kabhi gulshan se kabhi ban se nikal

وہی خوشبو کبھی گلشن سے کبھی بن سے نکالوہی آتش کبھی گل سے کبھی آہن سے نکال

آنکھ کو وسعت صحرا کا تماشائی کرنگہ مردہ و افسردہ کو روزن سے نکال

کر کچھ ایسا کہ تری خاک میں پرواز آئےاب کوئی اسپ فلک سیر اسی توسن سے نکال

مجھ سے مرمر کا وہ ترشا ہوا بت کہتا تھافن مری راہ کا پتھر ہے مجھے فن سے نکال

قرب منزل کی بشارت ہے بہت دور کی باتراہبر پہلے ہمیں پنجۂ رہزن سے نکال

تیری پہچان نہ بن جائے مرے خون کا داغیہ کوئی پھول نہیں ہے اسے دامن سے نکال

اک نگہ کر کہ کسی رنگ پہ ٹھہرے یہ حیاتآنکھ اٹھا اور شب و روز کی الجھن سے نکال

— خورشیدرضوی