غزل 8 اشعار

یہ جو ننگ تھے یہ جو نام تھے مجھے کھا گئے

Yeh jo nang the yeh jo naam the mujhe kha gaye

یہ جو ننگ تھے یہ جو نام تھے مجھے کھا گئےیہ خیال پختہ جو خام تھے مجھے کھا گئے

کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کیوہی زاویے کہ جو عام تھے مجھے کھا گئے

میں عمیق تھا کہ پلا ہوا تھا سکوت میںیہ جو لوگ محو کلام تھے مجھے کھا گئے

وہ جو مجھ میں ایک اکائی تھی وہ نہ جڑ سکییہی ریزہ ریزہ جو کام تھے مجھے کھا گئے

یہ عیاں جو آب حیات ہے اسے کیا کروںکہ نہاں جو زہر کے جام تھے مجھے کھا گئے

وہ نگیں جو خاتم زندگی سے پھسل گیاتو وہی جو میرے غلام تھے مجھے کھا گئے

میں وہ شعلہ تھا جسے دام سے تو ضرر نہ تھاپہ جو وسوسے تہ دام تھے مجھے کھا گئے

جو کھلی کھلی تھیں عداوتیں مجھے راس تھیںیہ جو زہر خند سلام تھے مجھے کھا گئے

— خورشیدرضوی