غزل 6 اشعار

خشک پتلی سے کوئی صورت نہ ٹھہرائی گئی

Khushk putli se koi soorat na thehraai gayi

خشک پتلی سے کوئی صورت نہ ٹھہرائی گئیآنکھ سے آنسو گئے میری کہ بینائی گئی

صبح دم کیا ڈھونڈتے ہو شب رووں کے نقش پاجب سے اب تک بارہا موج صبا آئی گئی

رو رہا ہوں ہر پرانی چیز کو پہچان کرجانے کس کی روح میرے روپ میں لائی گئی

مطمئن ہو دیکھ کر تم رنگ تصویر حیاتپھر وہ شاید وہ نہیں جو مجھ کو دکھلائی گئی

چلتے چلتے کان میں کس کی صدا آنے لگییوں لگا جیسے مری برسوں کی تنہائی گئی

ہم کہ اپنی راہ کا پتھر سمجھتے ہیں اسےہم سے جانے کس لیے دنیا نہ ٹھکرائی گئی

— خورشیدرضوی