غزل 6 اشعار

خرد سے دور غم تند خو میں اچھے تھے

Khirad se door gham-e-tund-khu mein achhe the

خرد سے دور غم تند خو میں اچھے تھےاسی جنوں میں اسی ہاؤ ہو میں اچھے تھے

نکل کے آپ سے باہر خراب و خوار ہوئےمدام غرق ہم اپنے لہو میں اچھے تھے

غرور زہد سے رنج گناہ بہتر تھاخراب شغل شراب و سبو میں اچھے تھے

وہ رائیگاں بھی اگر تھی تو رائیگاں نہ کہوکہ روز و شب مرے اس جستجو میں اچھے تھے

اگرچہ وہ بھی نہ تھے حسب آرزو لیکنوہ دن کٹے جو تری آرزو میں اچھے تھے

ہوا ہوئی ہے موافق ہمیں وہیں لے چلسفینہ راں ہم اسی آب جو میں اچھے تھے

— خورشیدرضوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں