غزل 7 اشعار

کچھ پھول تھے کچھ ابر تھا کچھ باد صبا تھی

Kuch phool the kuch abr tha kuch baad-e saba thi

کچھ پھول تھے کچھ ابر تھا کچھ باد صبا تھیکچھ وقت تھا کچھ وقت سے باہر کی فضا تھی

کچھ رنگ تھے کچھ دھوپ تھی کچھ دہشت انجامکچھ سانس تھے کچھ سانس میں خوشبوئے فنا تھی

کچھ رنگ شفق تیز تھا کچھ آنکھ میں خوں تھاکچھ ذہن پہ چھائی ترے ہاتھوں کی حنا تھی

کچھ گزری ہوئی عمر کی یادوں کا فسوں تھاکچھ آتے ہوئے وقت کے قدموں کی صدا تھی

صدیوں سے دھڑکتی ہوئی اک چاپ تھی دل میںایک ایک گھڑی صورت نقش‌ کف پا تھی

دونوں کو وہی ایک بکھر جانے کا ڈر تھامیں تھا گل صد چاک تھا اور تیز ہوا تھی

خورشیدؔ سر شام تا دامن کہساردل تھا کہ وہی کوہ کی دیرینہ ندا تھی

— خورشیدرضوی