غزل 5 اشعار

سینوں میں تپش ہے کبھی شورش ہے سروں میں

Seenon mein tapish hai kabhi shorish hai saron mein

سینوں میں تپش ہے کبھی شورش ہے سروں میںکیا چیز بسا دی گئی مٹی کے گھروں میں

چلتا ہوں سدا ساتھ لئے اپنی فصیلیںپہچان سکا کون مجھے ہم سفروں میں

اڑنا ہے تو تہذیب کرو سوز دروں کییہ ورنہ کہیں آگ لگا دے نہ پروں میں

غیروں میں ہوئی عام تری دولت دیداراک کحل بصر تھا کہ لٹا بے‌ بصروں میں

دو گام پہ تم خود سے بچھڑ جاتے ہو خورشیدؔاور لوگ سمجھتے ہیں تمہیں راہبروں میں

— خورشیدرضوی