غزل 10 اشعار

زمیں کا رزق ہے یا سوئے آسماں گئی ہے

Zameen ka rizq hai ya soo-e-aasman gayi hai

زمیں کا رزق ہے یا سوئے آسماں گئی ہےہمارے گنبد دل کی صدا کہاں گئی ہے

ملے کہاں سے کہ اب رائیگاں نہ ہونے دوںیہ زندگی تو مری سخت رائیگاں گئی ہے

میں دل ہی دل میں نشیمن کی خیر مانگتا ہوںچمن کی سمت صبا یوں تو مہرباں گئی ہے

گماں یہی تھا کہ اب وہ شبیہ خون آلودچلی گئی تہ دل سے مگر کہاں گئی ہے

یہ سوچتا ہوں بھٹکتی ہوئی نظر سے کاشوہیں وہیں پہ نہ جاتی جہاں جہاں گئی ہے

ہر ایک شے پہ مجھے اعتبار آنے لگایقیں کی لہر بہ اندازۂ گماں گئی ہے

سمجھ نہ خود کو تو اے بحر‌ بیکراں تنہانظر بھی ساتھ ترے ہو کے بے کراں گئی ہے

ہزار ساعت آئندہ خون روتی ہےیہ چشم نم جو کبھی سوئے رفتگاں گئی ہے

یہ موج اس کو چٹانوں پہ سر پٹکنا ہےجو آبشار کی جانب رواں دواں گئی ہے

ہر ایک نیند میں ڈوبے ہوئے شبستاں تکبلا سے کوئی نہ جاگے مگر اذاں گئی ہے

— خورشیدرضوی