غزل 7 اشعار

میں سوچتا تھا کہ وہ زخم بھر گیا کہ نہیں

Main sochta tha ke woh zakhm bhar gaya ke nahin

میں سوچتا تھا کہ وہ زخم بھر گیا کہ نہیںکھلا دریچہ در آئی صبا کہا کہ نہیں

ہوا کا رخ تو اسی بام و در کی جانب ہےپہنچ رہی ہے وہاں تک مری صدا کہ نہیں

زباں پہ کچھ نہ سہی سن کے میرا حال تباہترے ضمیر میں ابھری کوئی دعا کہ نہیں

لبوں پہ آج سر بزم آ گئی تھی باتمگر وہ تیری نگاہوں کی التجا کہ نہیں

خود اپنا حال سناتے حجاب آتا ہےہے بزم میں کوئی دیرینہ آشنا کہ نہیں

ابھی کچھ اس سے بھی نازک مقام آئیں گےکروں میں پھر سے کہانی کی ابتدا کہ نہیں

پڑھو نہ عشق میں خورشیدؔ ہم نہ کہتے تھےتمہیں بتاؤ کہ جی کا زیاں ہوا کہ نہیں

— خورشیدرضوی