غزل 7 اشعار

یوں تو وہ شکل کھو گئی گردش ماہ و سال میں

Yoon to woh shakl kho gayi gardish-e-maah-o-saal mein

یوں تو وہ شکل کھو گئی گردش ماہ و سال میںپھول ہے اک کھلا ہوا حاشیۂ خیال میں

اب بھی وہ روئے دل نشیں زرد سہی حسیں تو ہےجیسے جبین آفتاب مرحلۂ زوال میں

اب بھی وہ میرے ہم سفر ہیں روش خیال پراب وہ نشہ ہے ہجر میں تھا جو کبھی وصال میں

ان کے خرام ناز کو بوئے گل و صبا کہاہم نے مثال دی مگر رنگ نہ تھا مثال میں

اہل ستم کے دل میں ہے کیا مرے کرب کا حسابان کو خبر نہیں کہ میں مست ہوں اپنے حال میں

کیسا پہاڑ ہو گیا وقت گزارنا مجھےزخم پہ جم گئی نظر خواہش اندمال میں

تو نے مرے خمیر میں کتنے تضاد رکھ دیئےموت مری حیات میں نقص مرے کمال میں

— خورشیدرضوی