غزل 7 اشعار

نہ دن بجھے ہیں نہ بزم شبانہ خالی ہے

Na din bujhe hain na bazm-e-shabana khaali hai

نہ دن بجھے ہیں نہ بزم شبانہ خالی ہےنہیں ہے دل کا مگر کچھ ٹھکانہ خالی ہے

قفس میں پھر چلے آئے پلٹ کے اہل قفسکہیں چمن میں نہیں آب و دانہ خالی ہے

عجب دیار ہے یہ جس میں تاجداروں کےجڑے ہیں تاج میں ہیرے خزانہ خالی ہے

گل و ثمر سے تہی ہاتھ شاخساروں کےستاروں سے فلک بیکرانہ خالی ہے

اب آئے ہو کہ نہیں دل میں آرزو کوئیپرندے اڑ چکے ہیں آشیانہ خالی ہے

کبھی ملے تمہیں فرصت تو دیکھ لو ہم کوبس ایک ہم ہی بچے ہیں زمانہ خالی ہے

دلوں میں درد زباں میں حلاوتیں نہ رہیںسو مسند غزل عاشقانہ خالی ہے

— خورشیدرضوی