غزل 8 اشعار

نبض ایام ترے کھوج میں چلنا چاہے

Nabz-e-ayyam tere khoj mein chalna chaahe

نبض ایام ترے کھوج میں چلنا چاہےوقت خود شیشۂ ساعت سے نکلنا چاہے

دستکیں دیتا ہے پیہم مری شریانوں میںایک چشمہ کہ جو پتھر سے ابلنا چاہے

مجھ کو منظور ہے وہ سلسلۂ سنگ گراںکوہ کن مجھ سے اگر وقت بدلنا چاہے

تھم گیا آ کے دم باز پسیں لب پہ وہ نامدل یہ موتی نہ اگلنا نہ نگلنا چاہے

ہم تو اے دور زماں خاک کے ذرے ٹھہرےتو تو پھولوں کو بھی قدموں میں مسلنا چاہے

کہہ رہی ہے یہ زمستاں کی شب چاردہمکوئی پروانہ جو اس آگ میں جلنا چاہے

عمر اسی ٹھوکریں کھانے کے عمل میں گزریجس طرح سنگ ڈھلانوں پہ سنبھلنا چاہے

صبح دم جس نے اچھالا تھا فضا میں خورشیددل سر شام اسی بام پہ ڈھلنا چاہے

— خورشیدرضوی