5 اشعار

یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو

Yahi hai ishq ke sar do magar duhaai na do

یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو

«یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو» خورشیدرضوی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری، ادب، گانے» میں 13 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دووفور جذب سے ٹوٹو مگر سنائی نہ دو

زمیں سے ایک تعلق ہے ناگزیر مگرجو ہو سکے تو اسے رنگ آشنائی نہ دو

یہ دور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تلےسبھی کو بزم میں دیکھو مگر دکھائی نہ دو

شہنشہی بھی جو دل کے عوض ملے تو نہ لوفراز کوہ کے بدلے بھی یہ ترائی نہ دو

جواب تہمت اہل زمانہ میں خورشیدؔیہی بہت ہے کہ لب سی رکھو صفائی نہ دو

— خورشیدرضوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں