16 اشعار

گوتم کے پیرو

Gautam ke Pairau

گوتم کے کشکول میں باسی مانس کی بھکشااس کی مرتیو ٹھہری تھی

اس کی شکشا گہری تھیلیکن اندھیارے میں لپٹی

اس کو ایشور دھیان ہوا تھالیکن ایشور گیان ہوا کب

میں کہتا ہوںگوتم کو نروان ہوا کب

جیووں کی ہتیا دھرم نہیں ہے اس نے سکھایالیکن مانس اس نے خود کھایا

شاید اس کی مجبوری تھیآج اس کے پیرو دنیا میں

مانس کو سانس سمجھ بیٹھے ہیںگوتم کے پیروکاروں کے دیشوں کے کچھ بازاروں میں

جانوروں کے ہتیاروں کی دوکانوں پرایسے بورڈ بھی آویزاں ہیں

جن پہ لکھا ہےایسے جانوروں کا مانس یہاں بکتا ہے

جن کو آپ کی خاطر ہتیایا نہ گیا تھاناداں انسان

اپنے ہی وشواس انوسار اعمال کا مطلب لے لیتا ہےخود کو دھوکا دے لیتا ہے

بدھ کے پیرو جانوروں اور انسانوں سے پہلا پیار کہاں کرتے ہیںآج انہوں نے

اس کی شکشا کا بھی روپ بدل ڈالا ہےاس کو اپنا ہادی جانیں

لیکن اس کی بات نہ مانیںگوتم اب تو زندہ نہیں تابندہ نہیں ہے

اس کی پہلی مرتیو ہوئی تھی صدیوں پہلےدوسری مرتیو آج ہوئی ہے

من کی دنیا اب کتنی تاراج ہوئی ہے

— کرشن موہن