7 اشعار

رہن زمن

Rehan-e-Zaman

میں ایک شاعر بے فکر محو فکر سخنمگر پیاز کے نرخوں کے یہ نشیب و فراز

مرے معاش پہ ہوتے تو ہیں اثر اندازکہ میں بھی فرد بشر ہوں مجھے بھی جینا ہے

مرا وجود مری بود و باش رہن زمنادائے حسن مرے دل میں رنگ بھرتی ہے

مگر کچھ اور حقائق بھی ہیں معیشت کےہر ایک چیز کی مہنگائی دنگ کرتی ہے

ہجوم شہر مری شوق لہر کا دشمنمجھے بھی دیتا ہے اک اضطراب اور الجھن

بہت سے کام ضروری ہیں زندگی کے لئےکہ شعر شغل ہمہ وقت ہو نہیں سکتا

حیات مانگتی ہے رہن صحن کے سادھنمرا وجود مری بود و باش رہن زمن

— کرشن موہن