8 اشعار

دلدل

Daldal

مرا ذہن بنتا چلا جا رہا ہے خیالات فاسد کی دلدلکہ محسوس ہونے لگا ہے

مری زندگی میں رہے گی ہمیشہ ہوس کار فرماہو سرما کہ گرما

کبھی پیاس بجھتی نہیں ہےپیوں جتنی مے

فسون ملاقات ہے باعث بے قراریجنون ملاقات رہتا ہے طاری

کہ اکثر ملاقات ہوتی ہے لیکن ملاقات کو جی ترستا ہے پیہمکئی بار اس کیفیت پر ہنسا ہوں

ہے یہ کیسی دلدل کہ جس میں پھنسا ہوںابھرتا ہوں میں اس کی گہرائی سے بھی

مگر جیسے پھر ڈوب جانے کی خاطرغضب ہے ہوس کا یہ کس بل

مرا ذہن بنتا چلا جا رہا ہے خیالات فاسد کی دلدل

— کرشن موہن