11 اشعار

نقطوں کی کشمکش

Nuqton Ki Kashmakash

قافیوں سے کوئی چھٹکارا دلائےبن گئی تکلیف جاں مجھ کو ردیف

بحر ہے ہر وقت دل میں موجزن(قافیے کی آزمائش سے گزر

قافیہ پیما نہ بنقافیے نے آ دبوچا قافیہ پیما نہ ہو)

کھردرے پن کو ترستی ہے زباںکیوں منجھی ہیں اس قدر نظمیں مری

کیوں سجی ہے اس قدر میری غزل(قافیے کو روک پھر آنے لگا)

ذہن ہے مجنون آداب سخندل پرانے رس کا رسیا ہے ابھی

نکہت ماضی کا بسیا ہے ابھی(قافیہ پھر آ گیا مجبور ہوں

قافیے کو روک پھر آنے لگا)سوچتا ہوں بحر کی موجوں میں جکڑا ہوں ابھی

قافیہ تو خیر کافی رک گیابحر تو ٹوٹی نہیں

بحر اک بحر بسیطبحر اک دیو تنومند و محیط

اس قدر جدت سے کیوں ہے کد مجھےذہن و دل ہیں کیوں روایت کے اسیر

— کرشن موہن