6 اشعار

زندگی اور موت

Zindagi Aur Maut

موت ہے زیست کی ہم سفرایک ہی وقت پر

جینے کے ساتھ مرتا چلا جا رہا ہے بشرموت اور زیست اک دوسرے سے کہاں دور ہیں

ہر گھڑی جان کا کچھ نہ کچھ جزو مرتا چلا جائے ہےہم جو ہر آن مرتے چلے جا رہے ہیں بالاقساط اک روز مر جائیں گے

ذرہ ذرہ بکھر جائیں گےجنم دن ہی تو مرنے کا آغاز ہے

جنم دن ہی مرن دن بھی ہے اس لئےموت باہر نہیں بلکہ اندر ہے ہستی میں تحلیل ہے

زیست مرگ مسلسل کی تشکیل ہے

— کرشن موہن