5 اشعار

لب پہ کھِلتی ہنسی میں گُھلتے سے غم

Lab pe khilti hansi mein ghulte se gham

لب پہ کھِلتی ہنسی میں گُھلتے سے غم

«لب پہ کھِلتی ہنسی میں گُھلتے سے غم» ماہ نور کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

لب پہ کھِلتی ہنسی میں گُھلتے سے غموہ خوشی تیری عطا تو یہ اشک بھی تیرے کرم

تم تو مسرتوں میں نہیں ہمسفر بنےکیسے پکار لیں تمھیں سخت لمحوں میں ہم

شکستہ پاء، تھکا بدن ، نہ کوئ سنگِ میلاس سفر ناتمام میں کہیں ہو نہ جائیں گم

کہیں بہکتی نظر کا بھٹکنا ، تلاشنا ، لوٹ آناکہیں بے تال لے پہ ڈھڑکنوں کا رقصِ بے ردھم

لرزتی پلکوں پہ ڈولتی دھندلی سی اک صدااور یادوں کے دریچوں میں بکھرے ان سلے زخم

— ماہ نور