13 اشعار

میرے چارہ گر کوئی چارہ کر

Mere chara gar koi chara kar

میرے چارہ گر کوئی چارہ کر‏میرے کوزہ گر کوئی تو ایسا ہنر تو کر

‏مٹی اٹھا میری پاس سے‏زرا چاہ ملا میری ذات میں

‏اسے دل کے چاک پہ رکھ زرا‏مجھے ایسی کوئی شکل تُو دے

‏جو تیرے خیال کا روپ ہو‏چھڑک خاک اپنے نصیب کی

‏کہ رہے ساتھ تیرا میرا سدا‏مجھے گوندھ پیار کے آب سے

‏⁧ مجھے ڈھال اپنے مزاج میں‏مجھے روپ ایسا تُو دے کوئی

‏کہ تری نظر میں سماؤں بس‏میں نہ بھاؤں کبھی کسی اور کو

‏مجھے لمس کے اپنی یوں آنچ دے‏کہ نہ ٹوٹ پائیں کبھی مورت یہ

کہ‏تیری چاہ سے تبدیل ہو‏میرا رنگ روپ میری ہر ادا

‏اسی روپ میں ڈھل جاۓ بس‏جو تیرا گمان تیری چاہ ہو

‏میری منزلوں کے راستے‏تیری انگلیوں کے پور ہوں

‏میری ذات خود میری نہ ہو‏میری ذات پہ تیرا حق رہے

‏تیرا من جو مجھ سے پھرے کبھی‏میرا تن امانتِ گور ہو

— ماہ نور

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں