14 اشعار

سانحہ گل پلازہ

Saneha Gul Plaza

سانحہ گل پلازہ

«سانحہ گل پلازہ» ماہ نور کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

وہ اک آخری کالجس میں کوئی خیریت کی خبر نہ دے

بلکہ آگ میں گھِر نے کا بتاتا ہوجسے سن کر پیارا کوئی کہتا ہو کہ پڑھو کلمہ

اِن لرزتے ہوۓ لفظوں میں چھپی اذیتہر دردمند کی آنکھوں میں نمی لے آۓ

جنکی زندگی بھر کی پونجیشعلوں کے لپَٹوں میں لمحوں میں خاک ہوئی

وہ کس سے فریاد کریں ؟؟؟وہ جو "حکمران" کہلوا کے خوش رہتے ہیں

جو وزارت اور ایوانوں میں دھرے رہتے ہیںوہ کیسے چین سے سو جاتے ہیں

کیا انکے کانوں میں وہ چیخیں نہیں پہنچتیںجو ان آگ میں جھلستے ہوۓ جسموں نے

بہت اذیت میں ،کرب کیساتھبہت اپنوں کو پکارتے ہوۓ دی ہوں گی

جب وہ سانس لیتے ہیںتو کیا اس میں ان جلتے انسانی چمڑے کی بو نہیں جاتی

کیا اس آگ میں جلتے بچوں کے چہروں میںانھیں اپنے بچوں کے عکس نہیں ملتے

کیا گرتی عمارت کے باہران روتی سینہ کوبی کرتی عورتوں کی آوازوں میں

انکو اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کے نوحہ نہیں سنائی دیتےیہ حکمران کیسے سو جاتے ہیں ؟؟؟

یہ کیسے اتنے سنگ دل ہو جاتے ہیں ؟؟؟یہ کیسے خود کو سمجھاتے ہیں ؟؟؟

کیسے آخر کیسے ؟؟؟؟

— ماہ نور