24 اشعار

میونخ

Munich

میونخ

«میونخ» مجید امجد کا کلام ہے، جسے راشد نور نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

آج کرسمس ہےشہر میونخ میں آج کرسمس ہے

رودبارِ عسار کے پُل پرجس جگہ برف کی سلوں کی سڑک

فان کاچے کی سمت مڑتی ہےقافلے قہقہوں کے اترے ہیں

آج اس قریۂ شرا ب کے لوگ— جن کے رخ پر ہزیمتوں کا عرق

جن کے دل میں جراحتوں کی خراشایک عزمِ نشاط جو کے ساتھ

امڈ آئے ہیں مست راہوں پربانہیں بانہوں میں، ہونٹ ہونٹوں پر!

برف گرتی ہے، ساز بجتے ہیںکوئے میریں کے اک گھروندے میں

ایک بوڑھی، اداس ماں کے لیےپھول اک طاقچے پہ ہنستے ہیں

گرم انگیٹھی کے عکسِ لرزاں سےآگ اک آئینے میں جلتی ہے

ایک دستک ہے! کون آیا ہے؟زرد کمرے کے گوشے گوشے میں

جورِ ماضی کا سایۂ مصلوبآخری سانس لینے لگتا ہے

ماں کے چہرے کی ہر عمیق شکنایک حیران مسکراہٹ کے

دلنشیں زاویوں میں ڈھلتی ہے’’میری شالاط، اے مری شالاط

اے میں قرباں، تم آ گئیں، بیٹی!‘‘اور وہ دختِ ارضِ الماں جب

سر سے گٹھڑی اتار کر جھک کراپنی امی کے پاؤں پڑتی ہے

اس کی پلکوں پہ ملک ملک کی گردایک آنسو میں ڈوب جاتی ہے

ایک مفتوح قوم کی بیٹیپارۂ ناں کے واسطے، تنہا

روئے عالم کی خاک چھان آئیدس برس کے طویل عرصے کے بعد

آج وہ اپنے ساتھ کیا لائی؟روح میں، دیس دیس کے موسم!

بزمِ دوراں سے کیا ملا اس کو؟سیپ کی چوڑیاں ملایا سے

کینچلی چین کے اک اژدر کیٹھیکری اِک مہنجودارو کی

ایک نازک بیاض پر، مرا نامکون سمجھے گا اس پہیلی کو؟

فاصلوں کی کمند سے آزادمیرا دل ہے کہ شہرِ میونخ ہے

چار سو، جس طرف کوئی دیکھےبرف گرتی ہے، ساز بجتے ہیں

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں