12 اشعار

گلی کا چراغ

Gali ka Chiragh

گلی کا چراغ

«گلی کا چراغ» مجید امجد کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

تری جلن ہے مرے سوزِ دل کے کتنی قریبخدا رکھے تجھے روشن! چراغِ کوئے حبیب

تو جانتا ہے مری زندگی کا افسانہتو جانتا ہے میں کس شمع کا ہوں پروانہ

لرز لرز گئی اکثر تری یہ نازک لو۔۔۔ٹھٹک ٹھٹک کے چلا جب کوئی حزیں رہرو

وہ تیرے سانولے سایوں میں اس کا طوفِ نیازوہ دور ۔۔۔ موڑ پہ قدموں کی آخری آواز

صدا خفیف سی دستک سے ملتی جلتی ہوئیاور اس کے بعد کوئی چٹخنی سی کھلتی ہوئی

ہَوا کے نرم جھکولوں میں سرسراہٹ سیگلی کے کونے پہ باتیں سی، کھلکھلاہٹ سی

کہ اتنے میں نظر آیا طویل سایا کوئیپھر اک صدا کہ ’’وہ دیکھو ادھر سے آیا کوئی‘‘

کواڑ بند، گلی بےصدا، فضا خاموشاور ایک درد کا مارا مسافرِ مدہوش

پلٹ چلا انھی رستوں پہ ڈگمگاتا ہوادکھے دکھے ہوئے لہجوں میں گنگناتا ہوا

تو جانتا ہے کسی کی گلی کے پاک چراغچراغِ طور سے بھی بڑھ کے تابناک چراغ

کہ تو نہ ہو تو وہ آوارۂ دیارِ حبیبپہنچ سکے نہ کبھی ’’ان‘‘ کے آستاں کے قریب

جو تو نہ ہو تو یہ راز اک فسانہ بن جائےنگاہِ اہلِ جہاں کا نشانہ بن جائے

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں