16 اشعار

کنواں

Kunwan

کنواں

«کنواں» مجید امجد کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

کنواں چل رہا ہے ! مگر کھیت سوکھے پڑے ہیں نہ فصلیں ، نہ خرمن ، نہ دانہنہ شاخوں کی باہیں ، نہ پھولوں کے مکھڑے ، نہ کلیوں کے ماتھے ، نہ رت کی جوانی

گزرتا ہے کیاروں کے پیاسے کناروں کو یوں چیرتا تیز ، خوں رنگ ، پانیکہ جس طرح زخموں کی دکھتی تپکتی تہوں میں کسی نیشتر کی روانی

ادھر دِھیری دِھیریکنوئیں کی نفیری

ہے چھیڑے چلی جا رہی اک ترانہپر اسرار گانا

جسے سن کے رقصاں ہے اندھے تھکے ہارے بے جان بیلوں کا جوڑا بچاراگراں بار زنجیریں ، بھاری سلاسل ، کڑکتے ہوئے آتشیں تازیانے

طویل اور لا منتہی راستے پر بچھا رکھے ہیں دام اپنے قضا نےاِدھر وہ مصیبت کے ساتھی ، ملائے ہوئے سینگوں سے سینگ ، شانوں سے شانے

رواں ہیں نہ جانےکدھر ؟ کس ٹھکانے ؟

نہ رکنے کی تاب اور نہ چلنے کا یارامقدر نیارا

کنوئیں والا ، گادی پہ لیٹا ہے مست اپنی بنسی کی میٹھی سریلی صدا میںکہیں کھیت سوکھا پڑا رہ گیا اور نہ اس تک کبھی آئی پانی کی باری

کہیں بہہ گئی ایک ہی تند ریلے کی فیاض لہروں میں کیاری کی کیاریکہیں ہو گئیں دھول میں دھول لاکھوں ، رنگا رنگ فصلیں ، ثمر دار ساری

پریشاں پریشاںگریزاں گریزاں

تڑپتی ہیں خوشبوئیں دام ہوا میںنظامِ فنا میں

اور اک نغمہ سرمدی کان میں آ رہا ہے ، مسلسل کنواں چل رہا ہےپیاپے مگر نرم رو اس کی رفتار ، پیہم مگر بے تکان اس کی گردش

عدم سے ازل تک ، ازل سے ابد تک ، بدلتی نہیں ایک آن اس کی گردشنہ جانے لئے اپنے دو لاب کی استینوں میں کتنے جہان اس کی گردش

رواں ہے رواں ہےتپاں ہے تپاں ہے

یہ چکر یونہی جاوداں چل رہا ہےکنواں چل رہا ہے

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں