8 اشعار

ہر سال ان صبحوں

Har Saal In Subhon

ہر سال ان صبحوں

«ہر سال ان صبحوں» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

ہر سال ان صبحوں کے سفر میں اک دن ایسا بھی آتا ہےجب پل بھر کو ذرا سرک جاتے ہیں میری کھڑکی کے آگے سے گھومتے گھومتے

سات کروڑ کرے اور سورج کے پیلے پھولوں والی پھلواڑی سے اک پتی اڑ کرمیرے میز پر آ گرتی ہے

ان جنباں جہتوں میں ساکنتب اتنے میں سات کروڑ کرے پھر پاتالوں سے ابھر کر اور کھڑکی کے سامنے آ کر

دھوپ کی اس چوکور سی ٹکڑی کو گہنا دیتے ہیںآنے والے برس تک

اس کمرے تک واپس آنے میں مجھ کو اک دن اس کو ایک برس لگتا ہےآج بھی اک ایسا ہی دن ہے

ابھی ابھی اک آڑی ترچھی روشن سیڑھی صد ہا زاویوں کی پل بھر کو جھک آئی تھیاس کھڑکی تک

ایک لرزتی ہوئی موجودگی اس سیڑھی سے ابھی ابھی اس کمرے میں اتری تھیبرس برس ہونے کے پرتو کی یہ ایک پرت اس میز پر دم بھر یوں ڈھلتی ہے

جانے باہر اس ہونی کے ہست میں کیا کیا کچھ ہےآج یہ اپنے پاؤں تو پاتالوں میں گڑے ہوئے ہیں

— مجید امجد