5 اشعار

آ ہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلا

Aa hi jaayegi sehar matla-e-imkaan to khula

آ ہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلا

«آ ہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلا» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

آ ہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلانہ سہی باب قفس روزن زنداں تو کھلا

لے کے آئی تو صبا اس گل چینی کا پیاموہ سہی زخم کی صورت لب خنداں تو کھلا

سیل رنگ آ ہی رہے گا مگر اے کشت چمنضرب موسم تو پڑی بند بہاراں تو کھلا

دل تلک پہنچے نہ پہنچے مگر اے چشم حیاتبعد مدت کے ترا پنجۂ مژگاں تو کھلا

درد کا درد سے رشتہ ہے چلو اے مجروحؔآج یاروں سے یہ اک عقدۂ آساں تو کھلا

— مجروح سلطانپوری