5 اشعار

جو سمجھاتے بھی آ کر واعظ برہم تو کیا کرتے

Jo samjhate bhi aa kar waiz barham to kya karte

جو سمجھاتے بھی آ کر واعظ برہم تو کیا کرتے

«جو سمجھاتے بھی آ کر واعظ برہم تو کیا کرتے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

جو سمجھاتے بھی آ کر واعظ برہم تو کیا کرتےہم اس دنیا کے آگے اس جہاں کا غم تو کیا کرتے

حرم سے مے کدے تک منزل یک عمر تھی ساقیسہارا گر نہ دیتی لغزش پیہم تو کیا کرتے

جو مٹی کو مزاج گل عطا کر دیں وہ اے واعظزمیں سے دور فکر جنت آدم تو کیا کرتے

سوال ان کا جواب ان کا سکوت ان کا خطاب ان کاہم ان کی انجمن میں سر نہ کرتے خم تو کیا کرتے

جہاں مجروحؔ دل کے حوصلے ٹوٹیں نگاہوں سےوہاں کرتے بھی مرگ شوق کا ماتم تو کیا کرتے

— مجروح سلطانپوری