8 اشعار

دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے

Dur dur mujh se woh is tarah kharamaan hai

دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے

«دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہےہر قدم ہے نقش دل ہر نگہ رگ جاں ہے

بن گئی ہے مستی میں دل کی بات ہنگامہقطرہ تھی جو ساغر میں لب تک آ کے طوفاں ہے

ہم تو پائے جاں پر کر بھی آئے اک سجدہسوچتی رہی دنیا کفر ہے کہ ایماں ہے

میرے شکوۂ غم سے عالم ندامت میںاس لب تبسم پر شمع سی فروزاں ہے

یہ نیاز غم خواری یہ شکست دل داریبس نوازش جاناں دل بہت پریشاں ہے

منتظر ہیں پھر میرے حادثے زمانے کےپھر مرا جنوں تیری بزم میں غزل خواں ہے

فکر کیا انہیں جب تو ساتھ ہے اسیروں کےاے غم اسیری تو خود شکست زنداں ہے

اپنی اپنی ہمت ہے اپنا اپنا دل مجروحؔزندگی بھی ارزاں ہے موت بھی فراواں ہے

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں