9 اشعار

آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سے

Aa nikal ke maidan mein do rukhi ke khane se

آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سے

«آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سےکام چل نہیں سکتا اب کسی بہانے سے

عہد انقلاب آیا دور آفتاب آیامنتظر تھیں یہ آنکھیں جس کی اک زمانے سے

اب زمین گائے گی ہل کے ساز پر نغمےوادیوں میں ناچیں گے ہر طرف ترانے سے

اہل دل اگائیں گے خاک سے مہ و انجماب گہر سبک ہوگا جو کے ایک دانے سے

منچلے بنیں گے اب رنگ و بو کے پیراہناب سنور کے نکلے گا حسن کارخانے سے

عام ہوگا اب ہم دم سب پہ فیض فطرت کابھر سکیں گے اب دامن ہم بھی اس خزانے سے

میں کہ ایک محنت کش میں کہ تیرگی دشمنصبح نو عبارت ہے میرے مسکرانے سے

خودکشی ہی راس آئی دیکھ بد نصیبوں کو!خود سے بھی گریزاں ہیں بھاگ کر زمانے سے

اب جنوں پہ وہ ساعت آ پڑی کہ اے مجروحؔآج زخم سر بہتر دل پہ چوٹ کھانے سے

— مجروح سلطانپوری