8 اشعار

سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں

Su-e-maqtal ke paye sair-e-chaman jaate hain

سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں

«سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے زین العابدین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیںاہل دل جام بہ کف سر بہ کفن جاتے ہیں

آ گئی فصل جنوں کچھ تو کرو دیوانوابر صحرا کی طرف سایہ فگن جاتے ہیں

اس کو دیکھا نہیں تم نے کہ یہی کوچہ و راہشاخ گل شوخئ رفتار سے بن جاتے ہیں

وہ اگر بات نہ پوچھے تو کریں کیا ہم بھیآپ ہی روٹھتے ہیں آپ ہی من جاتے ہیں

بلبلو اپنی نوا فیض ہے ان آنکھوں کاجن سے ہم سیکھنے انداز سخن جاتے ہیں

جو ٹھہرتی تو ذرا چلتے صبا کے ہم راہیوں بھی ہم روز کہاں سوئے چمن جاتے ہیں

لٹ گیا قافلۂ اہل جنوں بھی شایدلوگ ہاتھوں میں لیے تار رسن جاتے ہیں

روک سکتا ہمیں زندان بلا کیا مجروحؔہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں