8 اشعار

آبلہ پا کوئی گزرا تھا جو پچھلے سن میں

Aabala-pa koi guzra tha jo pichle san mein

آبلہ پا کوئی گزرا تھا جو پچھلے سن میں

«آبلہ پا کوئی گزرا تھا جو پچھلے سن میں» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

آبلہ پا کوئی گزرا تھا جو پچھلے سن میںسرخ کانٹوں کی بہار آئی ہے اب کے بن میں

دیکھنا رنگ بدن یار کے پیراہن میںچاندنی دودھ سی چھٹکی ہے مرے آنگن میں

دیکھنا دیدہ ورو آمد طوفان تو نہیںٹپکی ہے درد کی ایک بوند مرے دامن میں

میں ہم آغوش صنم تھا مگر اے پیر حرمیہ شکن کیسے پڑی آپ کے پیرہن میں

کچھ نہ کچھ آج اسیروں نے کہا تو ہے ضرورایک اک گل سے لپٹتی ہے صبا گلشن میں

سہل اتنے بھی نہیں اے ستم ایجاد کہ ہمتھام لیتے ہیں گریبان دوانے پن میں

سر تسلیم نہیں بازوئے قاتل کا جوابآخرش مارے گئے خود بھی مسیحا ان میں

جا رہے ہو تو ذرا دیکھنا تم بھی مجروحؔمیری آنکھیں وہیں زنداں کے کسی روزن میں

— مجروح سلطانپوری