7 اشعار

وہ جس پہ تمہیں شمع‌ سر رہ کا گماں ہے

Woh jis pe tumhein sham-e-sar-e-rah ka gumaan hai

وہ جس پہ تمہیں شمع‌ سر رہ کا گماں ہے

«وہ جس پہ تمہیں شمع‌ سر رہ کا گماں ہے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

وہ جس پہ تمہیں شمع‌ سر رہ کا گماں ہےوہ شعلۂ آوارہ ہماری ہی زباں ہے

اب ہاتھ ہمارے ہے عناں رخش جنوں کیاب سر پہ ہمارے کلہ سنگ بتاں ہے

بس پھیر کے منہ خار قدم کھینچ رہے تھےدیکھا تو نہاں قافلۂ‌ ہم سفراں ہے

چبھتے ہی بنی خار صفت پائے خزاں میںکیا کیجے بہت ہم کو غم لالہ رخاں ہے

کام آئے بہت لوگ سر‌‌ مقتل ظلماتاے روشنیٔ کوچۂ‌ دلدار کہاں ہے

اے فصل جنوں ہم کو پئے شغل گریباںپیوند ہی کافی ہے اگر جامہ گراں ہے

مجروحؔ کہاں سے گہر گندم و جو لائیںاپنی تو گرہ میں یہی چشم نگراں ہے

— مجروح سلطانپوری