6 اشعار

آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ

Aah-e-jaan-soz ki mahroomi-e-taaseer na dekh

آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ

«آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھہو ہی جائے گی کوئی جینے کی تدبیر نہ دیکھ

حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سواہاں مجھے دیکھ مجھے اب میری تصویر نہ دیکھ

یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکوںخواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر نہ دیکھ

دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہاررقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

کچھ بھی ہوں پھر بھی دکھے دل کی صدا ہوں ناداںمیری باتوں کو سمجھ تلخئ تقریر نہ دیکھ

وہی مجروحؔ وہی شاعر آوارہ مزاجکوئی اٹھا ہے تری بزم سے دلگیر نہ دیکھ

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں