6 اشعار

مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے

Mujhe sehl ho gayin manzilen, woh hawa ke rukh bhi badal gaye

مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے

«مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئےترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئے

وہ لجائے میرے سوال پر کہ اٹھا سکے نہ جھکا کے سراڑی زلف چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے

وہی بات جو وہ نہ کہہ سکے مرے شعر و نغمہ میں آ گئیوہی لب نہ میں جنہیں چھو سکا قدح شراب میں ڈھل گئے

وہی آستاں ہے وہی جبیں وہی اشک ہے وہی آستیںدل زار تو بھی بدل کہیں کہ جہاں کے طور بدل گئے

تجھے چشم مست پتہ بھی ہے کہ شباب گرمیٔ بزم ہےتجھے چشم مست خبر بھی ہے کہ سب آبگینے پگھل گئے

مرے کام آ گئیں آخرش یہی کاوشیں یہی گردشیںبڑھیں اس قدر مری منزلیں کہ قدم کے خار نکل گئے

— مجروح سلطانپوری