11 اشعار

اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں

Ab ahl-e-dard yeh jeene ka ehtimam karein

اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں

«اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریںاسے بھلا کے غم زندگی کا نام کریں

فریب کھا کے ان آنکھوں کا کب تلک اے دلشراب خام پئیں رقص نا تمام کریں

غم حیات نے آوارہ کر دیا ورنہتھی آرزو کہ ترے در پہ صبح و شام کریں

نہ مانگوں بادۂ گلگوں سے بھیک مستی کیاگر ترے لب لعلیں مرا یہ کام کریں

نہ دیکھیں دیر و حرم سوئے رہروان حیاتیہ قافلے تو نہ جانے کہاں قیام کریں

ہیں اس کشاکش پیہم میں زندگی کے مزےپھر ایک بار کوئی سعئ نا تمام کریں

سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکیپیام زیرلبی کو صلائے عام کریں

غلام رہ چکے توڑیں یہ بند رسوائیکچھ اپنے بازوئے محنت کا احترام کریں

زمیں کو مل کے سنواریں مثال روئے نگاررخ نگار سے روشن چراغ بام کریں

پھر اٹھ کے گرم کریں کاروبار زلف و جنوںپھر اپنے ساتھ اسے بھی اسیر دام کریں

مری نگاہ میں ہے ارض ماسکو مجروحؔوہ سرزمیں کہ ستارے جسے سلام کریں

— مجروح سلطانپوری