4 اشعار

اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جا

Uthaye ja unke sitam aur jiye ja

اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جا

«اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جا» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 26 سیکنڈ ہے۔

اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جایوں ہی مسکرائے جا آنسو پئے جا

یہی ہے محبت کا دستور اے دلوہ غم دے تجھے تو دعائیں دئے جا

کبھی وہ نظر جو سمائی تھی دل میںاسی اک نظر کا سہارا لیے جا

ستائے زمانہ ستم ڈھائے دنیامگر تو کسی کی تمنا کئے جا

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں