11 اشعار

چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیے

Chaman hai maqtal-e-naghma ab aur kya kahiye

چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیے

«چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیےبس اک سکوت کا عالم جسے نوا کہیے

اسیر بند زمانہ ہوں صاحبان چمنمری طرف سے گلوں کو بہت دعا کہیے

یہی ہے جی میں کہ وہ رفتۂ تغافل و نازکہیں ملے تو وہی قصۂ وفا کہیے

اسے بھی کیوں نہ پھر اپنے دل زبوں کی طرحخراب کاکل و آوارۂ ادا کہیے

یہ کوئے یار یہ زنداں یہ فرش مے خانہانہیں ہم اہل تمنا کے نقش پا کہیے

وہ ایک بات ہے کہیے طلوع صبح نشاطکہ تابش بدن و شعلۂ حنا کہیے

وہ ایک حرف ہے کہیے اسے حکایت زلفکہ شکوۂ رسن و بندش بلا کہیے

رہے نہ آنکھ تو کیوں دیکھیے ستم کی طرفکٹے زبان تو کیوں حرف ناروا کہیے

پکاریے کف قاتل کو اب معالج دلبڑھے جو ناخن خنجر گرہ کشا کہیے

پڑے جو سنگ تو کہیے اسے نوالۂ زرلگے جو زخم بدن پر اسے قبا کہیے

فسانہ جبر کا یاروں کی طرح کیوں مجروحؔمزہ تو جب ہے کہ جو کہیے برملا کہیے

— مجروح سلطانپوری