8 اشعار

اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائے

Is baagh mein woh sang ke qaabil kaha na jaaye

اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائے

«اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائےجب تک کسی ثمر کو مرا دل کہا نہ جائے

شاخوں پہ نوک تیغ سے کیا کیا کھلے ہیں پھولانداز لالہ کاریٔ قاتل کہا نہ جائے

کس کے لہو کے رنگ ہیں یہ خار شوخ رنگکیا گل کتر گئی رہ منزل کہا نہ جائے

باراں کے منتظر ہیں سمندر پہ تشنہ لباحوال میزبانیٔ ساحل کہا نہ جائے

میرے ہی سنگ و خشت سے تعمیر بام و درمیرے ہی گھر کو شہر میں شامل کہا نہ جائے

زنداں کھلا ہے جب سے ہوئے ہیں رہا اسیرہر گام ہے وہ شور سلاسل کہا نہ جائے

ہم اہل عشق میں نہیں حرف گنہ سے کموہ حرف شوق جو سر محفل کہا نہ جائے

جس ہاتھ میں ہے تیغ جفا اس کا نام لومجروحؔ سے تو سائے کو قاتل کہا نہ جائے

— مجروح سلطانپوری