7 اشعار

ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو

Dara ke mauj-o-talatum se ham-nasheenon ko

ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو

«ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کویہی تو ہیں جو ڈبویا کیے سفینوں کو

جمال صبح دیا روئے نو بہار دیامری نگاہ بھی دیتا خدا حسینوں کو

ہماری راہ میں آئے ہزار مے خانےبھلا سکے نہ مگر ہوش کے قرینوں کو

کبھی نظر بھی اٹھائی نہ سوئے بادۂ نابکبھی چڑھا گئے پگھلا کے آبگینوں کو

یہی جہاں ہے جہنم یہی جہاں فردوسبتاؤ عالم بالا کے سیربینوں کو

ہوئے ہیں قافلے ظلمت کی وادیوں میں رواںچراغ راہ کیے خونچکاں جبینوں کو

تجھے نہ مانے کوئی تجھ کو اس سے کیا مجروحؔچل اپنی راہ بھٹکنے دے نکتہ چینوں کو

— مجروح سلطانپوری