6 اشعار

آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھا

Akhir gham-e-janan ko ae dil badh kar gham-e-dauraan hona tha

آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھا

«آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھا» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھااس قطرے کو بننا تھا دریا اس موج کو طوفاں ہونا تھا

ہر موڑ پہ مل جاتے ہیں ابھی فردوس و جناں کے شیدائیتجھ کو تو ابھی کچھ اور حسیں اے عالم امکاں ہونا تھا

وہ جس کے گداز محنت سے پر نور شبستاں ہے تیرااے شوخ اسی بازو پہ تری زلفوں کو پریشاں ہونا تھا

آتی ہی رہی ہے گلشن میں اب کے بھی بہار آئی ہے تو کیاہے یوں کہ قفس کے گوشوں سے اعلان بہاراں ہونا تھا

آیا ہے ہمارے ملک میں بھی اک دور زلیخائی یعنیاب وہ غم زنداں دیتے ہیں جن کو غم زنداں ہونا تھا

اب کھل کے کہوں گا ہر غم دل مجروحؔ نہیں وہ وقت کہ جباشکوں میں سنانا تھا مجھ کو آہوں میں غزل خواں ہونا تھا

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں