9 اشعار

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

Hamein shaoor-e-junoon hai ke jis chaman mein rahe

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

«ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہےنگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہے

تو اے بہار گریزاں کسی چمن میں رہےمرے جنوں کی مہک تیرے پیرہن میں رہے

مجھے نہیں کسی اسلوب شاعری کی تلاشتری نگاہ کا جادو مرے سخن میں رہے

نہ ہم قفس میں رکے مثل بوئے گل صیادنہ ہم مثال صبا حلقۂ رسن میں رہے

کھلے جو ہم تو کسی شوخ کی نظر میں کھلےہوئے گرہ تو کسی زلف کی شکن میں رہے

سرشک رنگ نہ بخشے تو کیوں ہو بار مژہلہو حنا نہیں بنتا تو کیوں بدن میں رہے

ہجوم دہر میں بدلی نہ ہم سے وضع خرامگری کلاہ ہم اپنے ہی بانکپن میں رہے

یہ حکم ہے رہے مٹھی میں بند سیل نسیمیہ ضد ہے بحر تپاں کوزۂ کہن میں رہے

زباں ہماری نہ سمجھا یہاں کوئی مجروحؔہم اجنبی کی طرح اپنے ہی وطن میں رہے

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں