اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جا
اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جایوں ہی مسکرائے جا آنسو پئے جا
یہی ہے محبت کا دستور اے دلوہ غم دے تجھے تو دعائیں دئے جا
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری
مہمان شاعر: مجروح سلطانپوری
اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جایوں ہی مسکرائے جا آنسو پئے جا
یہی ہے محبت کا دستور اے دلوہ غم دے تجھے تو دعائیں دئے جا
ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہےنگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہے
تو اے بہار گریزاں کسی چمن میں رہےمرے جنوں کی مہک تیرے پیرہن میں رہے
آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھااس قطرے کو بننا تھا دریا اس موج کو طوفاں ہونا تھا
ہر موڑ پہ مل جاتے ہیں ابھی فردوس و جناں کے شیدائیتجھ کو تو ابھی کچھ اور حسیں اے عالم امکاں ہونا تھا
مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہوکہ نہیں مرا کوئی نقش پا جو چراغ راہ گزر نہ ہو
رخ تیغ سے جو نہ ہو کبھی سحر ایسی کوئی نہیں مرینہیں ایسی ایک بھی شام جو تہ زلف دار بسر نہ ہو