8 اشعار

ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئے

Houn jo saare dast-o-pa hain khoon mein nehlaye hue

ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئے

«ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئےہم بھی ہیں اے دل بہاراں کی قسم کھائے ہوئے

خبط ہے اے ہم نشیں عقل حریفان بہارہے خزاں ان کی انہیں آئینہ دکھلائے ہوئے

کیا ہے ذکر آتش و آہن کہ غداران گلمارتے ہیں ہاتھ انگاروں پہ گھبرائے ہوئے

زندگی کی قدر سیکھی شکریہ تیغ ستمہاں ہمیں تھے کل تلک جینے سے اکتائے ہوئے

سیر ساحل کر چکے اے موج ساحل سر نہ مارتجھ سے کیا بہلیں گے طوفانوں کے بہلائے ہوئے

ہے یہی اک کاروبار نغمہ و مستی کہ ہمیا زمیں پر یا سر افلاک ہیں چھائے ہوئے

ساز اٹھایا جب تو گرماتے پھرے ذروں کے دلجام ہاتھ آیا تو مہر و مہ کے ہمسائے ہوئے

دشت و در بننے کو ہیں مجروحؔ میدان بہارآ رہی ہے فصل گل پرچم کو لہرائے ہوئے

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں