9 اشعار

جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میں

Jis dam yeh suna hai subh-e-watan mahboos faza-e-zindan mein

جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میں

«جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میں» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میںجیسے کہ صبا اے ہم قفسو بیتاب ہم آئے زنداں میں

ہو تیغ اثر زنجیر قدم پھر بھی ہیں نقیب منزل ہمزخموں سے چراغ راہ گزر بیٹھے ہیں جلائے زنداں میں

صدچاک قبائے امن و سکوں عریاں ہے اہنسائی کا جنوںکچھ خوں سے شہیدوں نے اپنے وہ گل ہیں کھلائے زنداں میں

یہ جبر سیاست یہ انساں مظلوم آہیں مجبور فغاںزخموں کی مہک داغوں کا دھواں مت پوچھ فضائے زنداں میں

غیروں کی خلش اپنوں کی لگن سوز غم جاناں درد وطنکیا کہیے کہ ہم ہیں کس کس کو سینے سے لگائے زنداں میں

گل بنتی ہے شاید خاک وطن شاید کہ سفر کرتی ہے خزاںخوشبوئے بہاراں ملتی ہے کچھ دن سے ہوائے زنداں میں

مجرم تھے جو ہم سو قید ہوئے صیاد مگر اب یہ تو بتاہر وقت یہ کس کو ڈھونڈتے ہیں دیوار کے سائے زنداں میں

جسموں پہ یہ کس کا نام سیہ لکھ دیتے ہیں کوڑوں کے نشاںہیں تاک میں کس کی زنجیریں اب آنکھ لگائے زنداں میں

رفتار زمانہ لے جن کی گاتی ہے گل نغمہ جن کاہم گاتے ہیں ان آوازوں سے آواز ملائے زنداں میں

— مجروح سلطانپوری