7 اشعار

ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح

Hum hain mata-e-koocha-o-bazaar ki tarah

ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح

«ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرحاٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

اس کوئے تشنگی میں بہت ہے کہ ایک جامہاتھ آ گیا ہے دولت بیدار کی طرح

وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاسپھرتی ہے کوئی شے نگہ یار کی طرح

سیدھی ہے راہ شوق پہ یوں ہی کہیں کہیںخم ہو گئی ہے گیسوئے دلدار کی طرح

بے تیشہ نظر نہ چلو راہ رفتگاںہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح

اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوںزخم جگر ہوئے لب و رخسار کی طرح

مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نامہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہ گار کی طرح

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں