4 اشعار

کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا

Koi humdam na raha koi sahara na raha

کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا

«کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہاہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا

شام تنہائی کی ہے آئے گی منزل کیسےجو مجھے راہ دکھا دے وہی تارا نہ رہا

اے نظارو نہ ہنسو مل نہ سکوں گا تم سےتم مرے ہو نہ سکے میں بھی تمہارا نہ رہا

کیا بتاؤں میں کہاں یوں ہی چلا جاتا ہوںجو مجھے پھر سے بلا لے وہ اشارہ نہ رہا

— مجروح سلطانپوری