4 اشعار

تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہے

Tujhe kya sunaaoon main dilruba, tere saamne mera haal hai

تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہے

«تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہےتری اک نگاہ کی بات ہے مری زندگی کا سوال ہے

مری ہر خوشی ترے دم سے ہے مری زندگی ترے غم سے ہےترے درد سے رہے بے خبر مرے دل کی کب یہ مجال ہے

ترے حسن پر ہے مری نظر مجھے صبح شام کی کیا خبرمری شام ہے تری جستجو میری صبح تیرا خیال ہے

مرے دل جگر میں سما بھی جا رہے کیوں نظر کا بھی فاصلہکہ ترے بغیر تو جان جاں مجھے زندگی بھی محال ہے

— مجروح سلطانپوری