7 اشعار

مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہو

Mere peeche ye to mahal hai ke zamana garm-e-safar na ho

مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہو

«مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہو» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہوکہ نہیں مرا کوئی نقش پا جو چراغ راہ گزر نہ ہو

رخ تیغ سے جو نہ ہو کبھی سحر ایسی کوئی نہیں مرینہیں ایسی ایک بھی شام جو تہ زلف دار بسر نہ ہو

مرے ہاتھ ہیں تو لوں گا خود میں اب اپنا ساقی مے کدہخم غیر سے تو خدا کرے لب جام بھی مرا تر نہ ہو

میں ہزار شکل بدل چکا چمن جہاں میں سن اے صباکہ جو پھول ہے ترے ہاتھ میں یہ مرا ہی لخت جگر نہ ہو

جنہیں سب سمجھتے ہیں مہر و مہ نہ ہوں صرف چند نقوش پاجسے کہتے ہیں کرۂ زمیں فقط ایک سنگ سفر نہ ہو

ترے پا زمیں پہ رکے رکے ترا سر فلک پہ جھکا جھکاکوئی تجھ سے بھی ہے عظیم تر یہی وہم تجھ کو مگر نہ ہو

شب ظلم نرغۂ راہزن سے پکارتا ہے کوئی مجھےمیں فراز دار سے دیکھ لوں کہیں کاروان سحر نہ ہو

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں