4 اشعار

کسی نے بھی تو نہ دیکھا نگاہ بھر کے مجھے

Kisi ne bhi to na dekha nigaah bhar ke mujhe

کسی نے بھی تو نہ دیکھا نگاہ بھر کے مجھے

«کسی نے بھی تو نہ دیکھا نگاہ بھر کے مجھے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

کسی نے بھی تو نہ دیکھا نگاہ بھر کے مجھےگیا پھر آج کا دن بھی اداس کر کے مجھے

صبا بھی لائی نہ کوئی پیام اپنوں کاسنا رہی ہے فسانے ادھر ادھر کے مجھے

معاف کیجے جو میں اجنبی ہوں محفل میںکہ راستے نہیں معلوم اس نگر کے مجھے

وہ درد ہے کہ جسے سہ سکوں نہ کہہ پاؤںملے گا چین تو اب جان سے گزر کے مجھے

— مجروح سلطانپوری