5 اشعار

یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں

Yeh ruke ruke se aansoo, yeh dabi dabi si aahein

یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں

«یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیںیوں ہی کب تلک خدایا غم زندگی نباہیں

کہیں ظلمتوں میں گھر کر ہے تلاش دشت رہبرکہیں جگمگا اٹھی ہیں مرے نقش پا سے راہیں

ترے خانماں خرابوں کا چمن کوئی نہ صحرایہ جہاں بھی بیٹھ جائیں وہیں ان کی بارگاہیں

کبھی جادۂ طلب سے جو پھرا ہوں دل شکستہتری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں بانہیں

مرے عہد میں نہیں ہے یہ نشان سربلندییہ رنگے ہوئے عمامے یہ جھکی جھکی کلاہیں

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں