6 اشعار

نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانے

Nigah-e-saaqi-e-na-meharban yeh kya jaane

نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانے

«نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانےکہ ٹوٹ جاتے ہیں خود دل کے ساتھ پیمانے

ملی جب ان سے نظر بس رہا تھا ایک جہاںہٹی نگاہ تو چاروں طرف تھے ویرانے

حیات لغزش پیہم کا نام ہے ساقیلبوں سے جام لگا بھی سکوں خدا جانے

تبسموں نے نکھارا ہے کچھ تو ساقی کےکچھ اہل غم کے سنوارے ہوئے ہیں مے خانے

یہ آگ اور نہیں دل کی آگ ہے ناداںچراغ ہو کہ نہ ہو جل بجھیں گے پروانے

فریب ساقئ محفل نہ پوچھئے مجروحؔشراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے

— مجروح سلطانپوری